ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / یوگی کو وزیراعلیٰ بنانابی جے پی کا چونکانے والا فیصلہ:سی پی ایم۔۔۔۔ آدتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیراعلیٰ بناناافسوس ناک:طارق انور

یوگی کو وزیراعلیٰ بنانابی جے پی کا چونکانے والا فیصلہ:سی پی ایم۔۔۔۔ آدتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیراعلیٰ بناناافسوس ناک:طارق انور

Sun, 19 Mar 2017 23:00:51    S.O. News Service

نئی دہلی، 19؍مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم)نے کٹر ہندوتو شبیہ والے یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کا وزیر اعلی بنائے جانے کی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے بی جے پی کا حیران کن فیصلہ قرار دیا ہے۔انہوں نے مودی حکومت کے’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘ کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔سی پی ایم کے پولٹ بیورو نے اتوار کو بیان جاری کر کے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی کے طور پر یوگی آدتیہ ناتھ کی تقرری بی جے پی کا ایک چونکانے والا فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یوگی اصل میں آر ایس ایس کی پسند ہیں، سنگھ نے بی جے پی کے ذریعے یہ جان بوجھ کر قدم اٹھایا ہے۔پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ یوپی کے لیے نقصان دہ ہو گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ آدتیہ ناتھ ایک مشہور ہندوتو نظریاتی بنیاد پرست ہیں ، جن کا فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے کا ریکارڈ ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف کئی مجرمانہ مقدمات زیر التوا ہیں،وہ نسل پرستانہ خیالات کے بھی حامی ہیں۔آدتیہ ناتھ کے انتخاب نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی کے ایجنڈے والے دعوے کی پول کھول دی ہے۔انہوں نے ایسا کر کے’سب کا ساتھ، سب کاوکاس ‘کے اپنے نعرے کا مذاق بنا دیا ہے۔پارٹی نے کہا کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اترپردیش میں تمام جمہوری اور سیکولر طاقتوں کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا، تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

آدتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیراعلیٰ بناناافسوس ناک:طارق انور
یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کا وزیر اعلی بنانا افسوس ناک بات ہے، ویسے ہر پارٹی کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنے وزیر اعلی کا انتخاب خود کرے ، لیکن اس سے وہاں جیسا ہوا ،اس سے اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ بی جے پی ملک کو کس سمت میں لے جا رہی ہے۔اتوار کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری اور کٹیہار سے ممبر پارلیمنٹ طارق انور نے کے بی ڈاؤن جھا کالج میں واقع دیپ نارائن گپتا کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ خیالات کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم لوگ کوشش کر تے رہتے ہیں کہ ملک کی سیاست کسانوں کی چوپال غریبوں کی جھونپڑی ، عام لوگوں کے گھر سے ہو، لیکن بی جے پی مٹھ کے مہنتوں کو ہی ترجیح دے رہی ہے۔جہاں تک یوگی آدتیہ ناتھ کا سوال ہے ، وہ ایک بنیاد پرستانہ نظریات کے حامل ہیں ، یوگی آدتیہ ناتھ کی شبیہ اترپردیش کی سماجی ہم آہنگی اور سماجی منظرنامہ کے مطابق نہیں ہے، جس طرح اتر پردیش انتخابی مہم میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اس سے لگتا ہے کہ ملک کے آئین پر ان کا یقین بالکل بھی نہیں ہے، ویسے اتحاد ہمارے ملک کی روایت رہی ہے، لیکن بی جے پی ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے میں لگی ہے۔وہیں، اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر انور نے کہا کہ مودی کے آگے اپوزیشن پوری طرح بے اثر ہو گیا ہے، اس بات سے میں متفق نہیں ہوں، ابھی جو پانچ ریاستوں کا انتخاب ہوا ہے ،اس میں یوپی اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے، لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے ،تو پنجاب میں بی جے پی کو تین سیٹ، گوا میں بی جے پی کی حکومت تھی، وہاں ان کے وزیر اعلی سمیت 8 وزیر الیکشن ہار گئے اور بی جے پی کواسمبلی کی 40سیٹو ں میں سے محض 11سیٹیں حاصل ہوئی۔اسی طرح منی پور میں دیکھا جائے تو 60میں سے بی جے پی کو 21سیٹیں ہی ملی، وہاں بھی لوگوں نے بی جے پی کو مسترد کردیا۔پنجاب میں بی جے پی کی درگت ہوئی،یہ سبھی لوگوں نے دیکھا ہے، پنجاب، گوا، اور منی پور ملک کے تین کونے پر ہے اور تینوں جگہ بی جے پی کو لوگوں نے مسترد کردیا ہے، تو یہ کہنا کہ ملک میں مودی کی طوطی بول رہی ہے، اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہو سکتا۔اتر پردیش میں جو کامیابی پارٹی کو ملی ہے، اس کی واضح وجہ ووٹوں کی تقسیم ہے۔طارق انور نے کہا کہ ای وی ایم پر ایک بہت بڑا سوال اٹھ رہا ہے، جسے مایاوتی اور کیجریوال نے اٹھایا ہے جس پر ملک بھر میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کو ملی واضح اکثریت سے بہار کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔


Share: